اترپردیش: انتخابی سیاست سے سماجی تقسیم تک

حوزہ/ہندوستان میں نفرت کی سیاست اب محض انتخابی حکمت عملی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک منظم بیانیے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس بیانیے کی بنیاد یہ تصور ہے کہ ملک کی اکثریتی آبادی کو اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہے۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان میں نفرت کی سیاست اب محض انتخابی حکمت عملی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک منظم بیانیے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس بیانیے کی بنیاد یہ تصور ہے کہ ملک کی اکثریتی آبادی کو اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، ان کی جان و مال اور ناموس کی بے حرمتی کی، ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرکے وہاں مساجد تعمیر کیں، انہیں مذہبی آزادی حاصل نہیں تھی اور تلوار کے زور پر ان کا مذہب تبدیل کروایا گیا۔ اسی تاریخی بیانیے کو موجودہ دور سے جوڑتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آج بھی اکثریتی طبقے کی تہذیب، ثقافت اور مذہبی شناخت کو اقلیتوں سے خطرہ ہے، اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے سخت سیاسی اور سماجی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ’’اکثریتی جذبات کے احترام‘‘کے نام پر ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں جو آئین کی روح، جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے لئے مسلسل خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ خاص طور پر اترپردیش اس سیاست کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔حال ہی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ’سڑک پر نماز‘ کے متعلق دئیے گئے بیان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔

اترپردیش کی سیاست کا ایک بڑا المیہ ’علامتی دشمن‘کا وجود ہے۔ اس دشمن کو سیاسی اور انتخابی ضرورتوں کے تحت تراشا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔ جب حکومت معاشی بحران، بے روزگاری، مہنگائی اور انتظامی ناکامیوں پر عوامی سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہوجاتی ہے تو فوراً عوامی بحث کا رخ مذہبی معاملات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ کبھی ’لو جہاد‘، کبھی ’تھوک جہاد‘، کبھی ’شمشان اور قبرستان‘، کبھی ’علی اور بجرنگ بلی‘، کبھی مدرسوں کی بے سود جانچ، کبھی تاریخی مسجدوں کے تنازعات، اور کبھی ’گائے کشی‘کے نام پر ہجومی تشدد کو ہوا دے کر عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مسلسل بیانیے نے سماج کے ایک حصے کو یہ یقین دلادیا ہے کہ ملک کے تمام مسائل کی جڑ مسلمان ہیں۔ یہی سوچ رفتہ رفتہ نفرت کو معمول اور امتیاز کو قومی فریضہ بنادیتی ہے۔

میڈیا بھی حکومت کے اس نفرتی بیانیے کو تقویت پہنچانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ٹی وی مباحث میں چیخ و پکار، اشتعال انگیزی اور مذہبی تقسیم کو ’قوم پرستی‘کے نام پر پیش کیا جارہا ہے۔ سنجیدہ عوامی مسائل کے بجائے مذہبی تنازعات کو بحث کا مرکز بنادیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی، جہاں افواہیں، نفرت انگیز مہمات اور اشتعال انگیز مواد تیزی کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے۔ اب نفرت صرف سیاسی جلسوں اور ٹی وی مباحث تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ کی گفتگو، بازاروں، عوامی مقامات بلکہ محلّوں تک سرایت کرچکی ہے۔

اترپردیش ہمیشہ سے ہندوستانی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ دہلی کے اقتدار کا راستہ اکثر لکھنؤ سے ہوکر گزرتا ہے، اسی لئے جو سیاسی ماڈل اترپردیش میں کامیاب ہوتا ہے، اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ریاست میں جس طرزِ سیاست کو فروغ دیا گیا، اس میں ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کے مقابلے میں مذہبی شناخت کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ سیاسی مباحث میں اسپتالوں، اسکولوں اور عوامی فلاح کے موضوعات کے بجائے مسجد، مدرسہ، اذان، حجاب اور سڑک پر نماز جیسے مسائل زیادہ نمایاں ہونے لگے۔ورنہ ایسے وقت میں جب پوری ریاست بجلی بحران، گیس اور تیل کی قلت جیسے مسائل سے پریشان ہے،وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ان عوامی مشکلات کے حل کے بجائے ’سڑک پر نماز‘پڑھنے والوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔اگر سڑک پر نماز پڑھنے سے شاہراہِ عام پر آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو یہ مسئلہ صرف نماز تک محدود نہیں رہتا۔ ہندوستان میں روزانہ مختلف مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور ان کا تعلق کسی ایک مذہب یا مسلک سے نہیں ہوتا۔ چونکہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، اس لئے ہر دین و عقیدے کے لوگ اپنے مذہبی اور عوامی اجتماعات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر ہندوؤں کے بہت سے مذہبی اجتماعات سڑکوں پر ہی منعقد ہوتے ہیں، جہاں مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ اجتماعی طاقت اور عوامی موجودگی کا اظہار بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔’بڑا منگل‘ کے دن گھر سے نکلنے سے پہلے بھی سوچنا پڑتا ہے، کیونکہ اکثر سڑکوں پر ’منگل بھنڈارا‘کے پنڈال نصب ہوتے ہیں۔ ان پنڈالوں کی وجہ سے آدھی سے زیادہ سڑک گھرجاتی ہے اور لمبی قطاروں کے سبب آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جنہیں نمونے کے طورپر پیش کیاجاسکتاہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی کے بیان کے پس منظر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ نمازجمعہ یا عید کی نماز جب کھلے میدانوں یا سڑکوں پر ادا کی جاتی ہے تو وہ ایک نمایاں اجتماعی مذہبی منظر کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ہندوتوا سیاست میں اس طرح کی مسلم عوامی موجودگی کو محض مذہبی عمل کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی اور تہذیبی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’سڑک پر نماز‘کا معاملہ صرف ٹریفک یا نظم و نسق کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ اسے ہندوستان کی موجودہ سیاست، اکثریتی قوم پرستی، ریاستی طاقت اور مذہبی آزادی کے درمیان جاری کشمکش کے ایک اہم حصے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔البتہ ہم ’سڑک پر نماز‘ ادا کرنے کو صحیح نہیں ٹھہراتے، کیونکہ شاہراہوں کو مسدود کرنا شرعی طور پر بھی مناسب نہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ صرف مسلمانوں سے مخصوص ہے، یا دوسرے مذاہب کے لوگ بھی سڑکوں اور شاہراہوں پر مذہبی اجتماعات منعقد کرتے ہیں؟ اس پہلو پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔اس منافرانہ بیانیے کو ’قانون و نظم‘اور ’اکثریتی جذبات‘ کے احترام کے نام پر پیش کیا گیا، حالانکہ یہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں سماجی طور پر دبانے کی ایک کوشش ہے۔ اگر سڑکوں پر نماز پڑھنے سے عوامی نظم اور قانونی انتظامات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہی خطرہ اُس وقت کیوں محسوس نہیں ہوتا جب سڑکوں پر مذہبی جلوس نکلتے ہیں، لاؤڈ اسپیکر بجتے ہیں اور کھلے عام اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں؟ ایسے مواقع پر ریاستی مشینری اکثر خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔خاص طور پر جب مسلمانوں کے اجتماعی قتل یا ان کے اقتصادی بائیکاٹ کی اپیلیں کی جاتی ہیں تو حکومت کی خاموشی محض بے حسی نہیں رہتی، بلکہ اسے ان نفرت انگیز مطالبات کی عملی تائید کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔ ایسی خاموشی سماج میں یہ پیغام دیتی ہے کہ نفرت انگیز بیانات اور امتیازی رویوں کے خلاف ریاستی سطح پر سنجیدہ مزاحمت موجود نہیں ہے۔

اس دوہرے معیار نے اقلیتوں کے اندر یہ احساس گہرا کردیا ہے کہ اب قانون کی تشریح بھی مذہبی شناخت کے مطابق ہونے لگی ہے۔ حکومتوں کا ایک بڑا مسئلہ اکثریتی طبقے کی ناز برداری بن چکا ہے۔ بے شک اکثریتی جذبات کا احترام ضروری ہے، مگر جمہوریت صرف اکثریت کی خواہش کا نام نہیں ہوتی۔ جمہوریت وہ نظام ہے جہاں اکثریت کے ساتھ اقلیت کے حقوق بھی یکساں طور پر محفوظ رہتے ہیں۔ اگر اکثریت کی خواہش ہی قانون کی بنیاد بن جائے اور اقلیت کی آواز کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے تو پھر جمہوریت اور ہجومیت کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ہندوستان کے آئین سازوں نے اسی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے ملک کو سیکولر اور کثرت پسند بنیادوں پر قائم کیا تھا، مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ملک کے سیکولر کردار کو مسلسل کمزور کیا جارہا ہے اور ’اکثریتی جذبات‘کے نام پر ایک نیا سیاسی بیانیہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں سیکولر بنیادوں پر حکومت سے سوال کرنا بھی محال ہوگیاہے۔

اس پورے منظرنامے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستان کی صدیوں پرانی روایت دم توڑرہی ہے ۔گنگاجمنی تہذیب کا تمسخر کیاجاجاتاہے ۔وہ تہذیب جس میں مختلف زبانیں ،ثقافتیں ایک ساتھ سانس لیتی تھیں ،آج مسلسل شکوک وشبہات کی زد میں ہے ۔بلکہ یرقانی تنظیموں نے تو اس روایت کو مسلم نازبرداری سے نسبت دی ہے ۔اگر سیاست کا مرکز صرف اکثریتی غلبہ بن جائے تو سماجی اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے، اور جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو قومیں اندر سے کمزور ہوجاتی ہیں۔

موجودہ منظرنامے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان دوبارہ اپنے آئینی اور اخلاقی اصولوں کی طرف لوٹے ۔اکثریتی جذبات کا احترام ضرور ہومگر اس کی بنیاد انصاف اور مساوات پر ہونہ کہ خوف اور نفرت پر۔ریاست کا کام تمام شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنااور انہیں برابر تحفظ دیناہے نہ کہ ایک طبقے کے جذبات کو دوسرے طبقے کے حقوق پر ترجیح دینا۔کیونکہ جب سیاست نفرت پر کھڑی ہوتی ہے تو وقتی انتخابی فائدہ تو مل سکتا ہے، مگر قوم کی اجتماعی روح زخمی ہوجاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha